Sunday, 29 June 2014
انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ : انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری ۔۔۔ ؟ میاں اش...
انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ : انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری ۔۔۔ ؟ میاں اش...: انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری ۔۔۔ ؟ میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم ہمیشہ سے سُنا ک...
انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری ۔۔۔ ؟ میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم ہمیشہ سے سُنا کرتے تھے کہ جس کی لاٹھی اُسکی بھینس۔ لیکن جب قوموں کے متعلق تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کی سوچ پروان چڑھی تو شائد معصوم ذہنوں میں یہ بات کہیں اٹک کر ر ہ گی
انڑنیشنل قوانین اور امریکہ کی پاسدری ۔۔۔ ؟
میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
چےئرمین مصطفائی جسٹس فورم
ہمیشہ سے سُنا کرتے تھے کہ جس کی لاٹھی اُسکی بھینس۔ لیکن جب قوموں کے
متعلق تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کی سوچ پروان چڑھی تو شائد معصوم ذہنوں
میں یہ بات کہیں اٹک کر ر ہ گی و ہ یہ کہ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ
ہونا مہذب ہونے کی نشانی ہے۔ نبی پاک ﷺ نے عرب کے وحشیوں کو جب مہذب
بنایا اُن کی تربیت فرمائی تو یہ اُسی تربیت کا اثر تھا کہ پوری دنیا کی
مسلمانوں نے امامت فرمائی اور دنیا کو اچھی حکمرانی کے طور طریقے سکھائے۔
موجودہ دور میں حالات و واقعات نے یہ بات ثابت کردی ہے اور ایک بات شدت
کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے کہ امریکہ انٹرنیشنل قوانین کی پامالی کررہا
ہے۔ امریکہ جو کہ ہر معاملے میں خود کو گھسیٹتا ہے اور خود کو کو کوئی
اوتار سمجھے ہوئے ہے۔ اُسے دُنیا میں موجود مسلم عوام ایک آنکھ نہیں بھاتی
۔ اقوام متحدہ اور امریکہ کا موجودہ کردار کسی طور بھی انڑنیشنل قوانین
کے تحت نہیں ہے۔ اقوام متحدہ صرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا
فیریضہ انجام دئے رہا ہے اور اِسکا اولین کام امریکہ کی تابعدارای اور
فرما برداری ہے۔ تقریباً دنیا کے تمام ملکوں میں امریکہ کا اثر روسوخ ہے
یہ اثرورسوخ پہلے معاشی اور بعد میں پھر سیاسی بن جاتا ہے۔ اگر نرم سے نرم
الفاظ میں بات کی جائے تو بھی امریکہ اِس وقت پوری دُنیا کا دُشمن بنا
بیٹھا ہے اور اِس کی سامراجیت کو لگام دینا والا اِسکا کوئی بھی ہم پلہ
ملک نہیں ہے۔روس کی شکست وریخت کے بعد تو امریکہ کو کھلی چُھٹی ملی ہوئی
ہے۔ عراق میں لاکھوں انسانون کا قتل عام اور ا فغانی عوام کے خون سے
ہولی امریکی دہشت گردی کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔شام ،مصر ، ترکی کے اندر
مداخلت پاکستان میں ڈرون حملے، کیا یہ سب کچھ کسی قانون قاعدے یا اخلاقی
پہلو کو پیشِ نظر رکھ کر کیا جارہاہے۔امریکہ اس وقت سب سے بڑا دہشت گرد ہے
اور بین الا قوامی قوانین کی دھیجیاں اُڑا رہا ہے۔ پاکستان میں ریمنڈ
ڈیوس کے ہاتھوں معصوم شخص کا قتل اور پھر ریمنڈڈیوس کی رہائی کیا یہ
قانون پر عملداری ہے۔ بین ا لاقوامی قانون تو کہتا ہے کہ
DECLARATION ON PRINCIPLES OF INTERNATIONAL LAW FRIENDLY RELATIONS AND CO-OPERATION AMONG STATES IN ACCORDANCE WITH THE CHARTER OF THE UNITED NATIONSThe General Assembly,Recalling its resolutions 1815 (XVII) of 18 December 1962, 1966 (XVIII) of 16 December 1963, 2103 (XX) of 20 December 1965, 2181 (XXI) of 12 December 1966, 2327 (XXII) of 18 December 1967, 2463 (XXIII) of 20 December 1968 and 2533 (XXIV) of 8 December 1969, in which it affirmed the importance of the progressive development and codification of the principles of international law concerning friendly relations and co-operation among States,Having considered the report of the Special Committee on Principles of International Law concerning Friendly Relations and Co-operation among States, which met in Geneva from 31 March to 1 May 1970,Emphasizing the paramount importance of the Charter of the United Nations for the maintenance of international peace and security and for the development of Friendly relations and Co-operation among States, Deeply convinced that the adoption of the Declaration on Principles of International Law concerning Friendly Relations and Co-operation among States in accordance with the Charter of the United Nations on the occasion of the twenty-fifth anniversary of the United Nations would contribute to the strengthening of world peace and constitute a landmark in the development of international law and of relations among States, in promoting the rule of law among nations and particularly the universal application of the principles embodied in the Charter,Considering the desirability of the wide dissemination of the text of the Declaration,
کیا یہ صرف الفا ظ کی حد تک اقوام متحدہ کرتا ہے یا اِس کی کوئی عملی صورت بھی نظر آتی ہے۔ راقم کے خیال میں امریکہ اِس وقت دنیا میں دہشت کا نشان بن چکا ہے۔ بھارتی حکومت نے جس طرح ممبئی حملے خود کروائے اور اُس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر پورے دُنیا میں پاکستان کو خوب بدنام کیایہ سب کچھ امریکہ کی آشیر باد سے کیا گیا وہ تو امریکی انٹیلی جنس آفیسر نے بھارتی عدالت میں حلف نامے کے ساتھ یہ بیان جمع کروایا ہے کہ یہ سب کچھ بھارت نے خود کیا تھا۔یہ ہے بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ ۔کشمیرکی وادی میں مسلمانوں کا قتل عام امریکہ اقوام متحدہ کی بے حسی کا شاخسانہ ہے۔اگر ہم اِس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ امریکی قانون شکنی کا سارا زور کس پر ہے تو صرف اور صرف وہ مسلم دُنیا ہے۔اِس حوالے سے مسلم حکمرانوں کو اپنے اپنے ملکوں میں جمہوری اندازِ حکمرانی اپنانا ہوگا تاکہ اُن کی عوام جو سوچتی ہے اور جو چاہتی ہے اُس کی آواز مسلم حکمرانوں کے کانوں تک پہنچے اور وہ اپنے عوام کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے سکیں۔کیونکہ جس طرح سے امریکہ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کو اپنی دوستی کے چنگُل میں پھانسا اور پھر عراق کی جانب سے ایران کے اوپر چڑھائی کروائی اور ایران کو کمزور کیا بعد میں اِسی صدام کو پھانسی پہ لٹکایا اور دنیا بھر کے میڈیا پہ لائیو دیکھایا۔پھر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور بارہ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ امریکہ بہادر کے سامنے کلمہ حق کہنا تو ایک طرف مسلم حکمران تو اِس کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے۔ مسلم دنیا کو اپنے عوام کو خوشحال کرنا ہو گا اور پھر جب مسلم دنیا خود اپنی عوام کی آشیر باد سے اس قابل ہوں کہ وہ اقوام متحدہ اور امریکہ کو یہ احساس دلائیں کہ انٹرنیشنل قوانین پر عمل درآمد کس طرح ہوتا ہے اگر چہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کا راہ راست پر آنا مستقبل قریب میں دیکھائی نہیں دیتا لیکن اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ امریکی عوام ی مہذب ہیں لیکن اگر وہ اتنی مہذب،ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہیں تو پھر ان کی عقل و دانش ان کو اس امر کی طرف راغب کیوں نہیں کرتی کہ امریکہ بھی عالمی قوانین کا احترام کرئے امریکی عوام کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ پوری دنیا میں امریکہ صرف اِس لیے نفرت کا نشان ہے کہ امریکہ نے خود کو ہر طرح کے قانون
سے بالا تر سمجھ رکھا ہے۔ ایران کے خلاف معاشی پابندیاں اور اسرائیل کو کھلی چُھٹی بین الاقوامی قوانین کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ امریکہ کی اتنی ٹانگیں نہیں ہیں کہ وہ ہر معاملے میں اپنے ٹانگ اڑا رہا ہے اِس کا انجام روس کی طرح ہی ہوگا کہ یہ آخر کار اپنی ٹانگیں تڑوا بیٹھے گا۔ امریکہ کی جگہ لینے کے لیے چین تیار بیٹھا ہے روس کو ختم کرنے کے لیے جس طرح پوری دُنیا کے مسلمانوں کو امریکہ نے جہاد کے نام پر اکھٹا کیا اور افغانستان کی جنگ میں جھونکا اور روس کو شکست دی اور خود واحد سپر بن گیا۔ القائدہ ،طالبان امریکہ کے لگا ئے ہوے پودے ہیں جو کانٹے بن چکے ہیں۔اقوام متحدہ ، بین الاقوامی عدالت ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہونے کے باوجود امریکہ جانب سے پوری دنیا میں دہشت گردی اور پاکستان میں ڈرون کی شکل میں تباہی یہ وہ سوالیہ نشان ہیں کہ جو پوری دنیا کے سامنے امریکہ کا چہرہ بے نقاب کیے ہوئے ہیں کہ امریکہ اِس وقت سب سے بڑا قانون شکن ہے۔
DECLARATION ON PRINCIPLES OF INTERNATIONAL LAW FRIENDLY RELATIONS AND CO-OPERATION AMONG STATES IN ACCORDANCE WITH THE CHARTER OF THE UNITED NATIONSThe General Assembly,Recalling its resolutions 1815 (XVII) of 18 December 1962, 1966 (XVIII) of 16 December 1963, 2103 (XX) of 20 December 1965, 2181 (XXI) of 12 December 1966, 2327 (XXII) of 18 December 1967, 2463 (XXIII) of 20 December 1968 and 2533 (XXIV) of 8 December 1969, in which it affirmed the importance of the progressive development and codification of the principles of international law concerning friendly relations and co-operation among States,Having considered the report of the Special Committee on Principles of International Law concerning Friendly Relations and Co-operation among States, which met in Geneva from 31 March to 1 May 1970,Emphasizing the paramount importance of the Charter of the United Nations for the maintenance of international peace and security and for the development of Friendly relations and Co-operation among States, Deeply convinced that the adoption of the Declaration on Principles of International Law concerning Friendly Relations and Co-operation among States in accordance with the Charter of the United Nations on the occasion of the twenty-fifth anniversary of the United Nations would contribute to the strengthening of world peace and constitute a landmark in the development of international law and of relations among States, in promoting the rule of law among nations and particularly the universal application of the principles embodied in the Charter,Considering the desirability of the wide dissemination of the text of the Declaration,
کیا یہ صرف الفا ظ کی حد تک اقوام متحدہ کرتا ہے یا اِس کی کوئی عملی صورت بھی نظر آتی ہے۔ راقم کے خیال میں امریکہ اِس وقت دنیا میں دہشت کا نشان بن چکا ہے۔ بھارتی حکومت نے جس طرح ممبئی حملے خود کروائے اور اُس کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر پورے دُنیا میں پاکستان کو خوب بدنام کیایہ سب کچھ امریکہ کی آشیر باد سے کیا گیا وہ تو امریکی انٹیلی جنس آفیسر نے بھارتی عدالت میں حلف نامے کے ساتھ یہ بیان جمع کروایا ہے کہ یہ سب کچھ بھارت نے خود کیا تھا۔یہ ہے بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ ۔کشمیرکی وادی میں مسلمانوں کا قتل عام امریکہ اقوام متحدہ کی بے حسی کا شاخسانہ ہے۔اگر ہم اِس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ امریکی قانون شکنی کا سارا زور کس پر ہے تو صرف اور صرف وہ مسلم دُنیا ہے۔اِس حوالے سے مسلم حکمرانوں کو اپنے اپنے ملکوں میں جمہوری اندازِ حکمرانی اپنانا ہوگا تاکہ اُن کی عوام جو سوچتی ہے اور جو چاہتی ہے اُس کی آواز مسلم حکمرانوں کے کانوں تک پہنچے اور وہ اپنے عوام کی ترجمانی کا فریضہ انجام دے سکیں۔کیونکہ جس طرح سے امریکہ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کو اپنی دوستی کے چنگُل میں پھانسا اور پھر عراق کی جانب سے ایران کے اوپر چڑھائی کروائی اور ایران کو کمزور کیا بعد میں اِسی صدام کو پھانسی پہ لٹکایا اور دنیا بھر کے میڈیا پہ لائیو دیکھایا۔پھر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور بارہ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ امریکہ بہادر کے سامنے کلمہ حق کہنا تو ایک طرف مسلم حکمران تو اِس کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے۔ مسلم دنیا کو اپنے عوام کو خوشحال کرنا ہو گا اور پھر جب مسلم دنیا خود اپنی عوام کی آشیر باد سے اس قابل ہوں کہ وہ اقوام متحدہ اور امریکہ کو یہ احساس دلائیں کہ انٹرنیشنل قوانین پر عمل درآمد کس طرح ہوتا ہے اگر چہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کا راہ راست پر آنا مستقبل قریب میں دیکھائی نہیں دیتا لیکن اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ امریکی عوام ی مہذب ہیں لیکن اگر وہ اتنی مہذب،ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ہیں تو پھر ان کی عقل و دانش ان کو اس امر کی طرف راغب کیوں نہیں کرتی کہ امریکہ بھی عالمی قوانین کا احترام کرئے امریکی عوام کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ پوری دنیا میں امریکہ صرف اِس لیے نفرت کا نشان ہے کہ امریکہ نے خود کو ہر طرح کے قانون
سے بالا تر سمجھ رکھا ہے۔ ایران کے خلاف معاشی پابندیاں اور اسرائیل کو کھلی چُھٹی بین الاقوامی قوانین کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ امریکہ کی اتنی ٹانگیں نہیں ہیں کہ وہ ہر معاملے میں اپنے ٹانگ اڑا رہا ہے اِس کا انجام روس کی طرح ہی ہوگا کہ یہ آخر کار اپنی ٹانگیں تڑوا بیٹھے گا۔ امریکہ کی جگہ لینے کے لیے چین تیار بیٹھا ہے روس کو ختم کرنے کے لیے جس طرح پوری دُنیا کے مسلمانوں کو امریکہ نے جہاد کے نام پر اکھٹا کیا اور افغانستان کی جنگ میں جھونکا اور روس کو شکست دی اور خود واحد سپر بن گیا۔ القائدہ ،طالبان امریکہ کے لگا ئے ہوے پودے ہیں جو کانٹے بن چکے ہیں۔اقوام متحدہ ، بین الاقوامی عدالت ، انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہونے کے باوجود امریکہ جانب سے پوری دنیا میں دہشت گردی اور پاکستان میں ڈرون کی شکل میں تباہی یہ وہ سوالیہ نشان ہیں کہ جو پوری دنیا کے سامنے امریکہ کا چہرہ بے نقاب کیے ہوئے ہیں کہ امریکہ اِس وقت سب سے بڑا قانون شکن ہے۔
اِسی حوالے سے جذبات کا اظہار الفاظ کی صورت میں:
یہ امریکہ ہے
پوری مسلم دنیا میں دہشت کی علامت ہے
خود کو امن کا علمبردار کہتا ہے
لیکن عراق ، اٖفغا نستان مصر ، شام ، کشمیر برما میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل میں بالواسطہ اور بلاوسطہ ملوث ہے۔
پاکستانی عوام پر ڈرون حملے کرکے اُن کو موت کی نیند سلاتا ہے
اور خود کو پاکستان کو حلیف اور دوست بھی کہتا ہے۔
یہ نہ قانون پر عمل کرتا ہے نہ کسی قانون کو مانتا ہے
یہ امریکہ خود قاتل ہے اور مقتول کی دوستی کا دم بڑھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشر ف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ گذشتہ دو دہائیوں سے سماجی، عمرانی، معاشی قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں ۔ قانون ومعاشیات کے اُستاد ہیں ۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔انسانی حقوق کی تنطیم مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں اور برصغیر کی عظیم روحنی درگاہ حغرت میاں وڈا لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔
پوری مسلم دنیا میں دہشت کی علامت ہے
خود کو امن کا علمبردار کہتا ہے
لیکن عراق ، اٖفغا نستان مصر ، شام ، کشمیر برما میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل میں بالواسطہ اور بلاوسطہ ملوث ہے۔
پاکستانی عوام پر ڈرون حملے کرکے اُن کو موت کی نیند سلاتا ہے
اور خود کو پاکستان کو حلیف اور دوست بھی کہتا ہے۔
یہ نہ قانون پر عمل کرتا ہے نہ کسی قانون کو مانتا ہے
یہ امریکہ خود قاتل ہے اور مقتول کی دوستی کا دم بڑھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشر ف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ گذشتہ دو دہائیوں سے سماجی، عمرانی، معاشی قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں ۔ قانون ومعاشیات کے اُستاد ہیں ۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں۔انسانی حقوق کی تنطیم مصطفائی جسٹس فورم کے سربراہ ہیں اور برصغیر کی عظیم روحنی درگاہ حغرت میاں وڈا لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔
Subscribe to:
Comments (Atom)